آج کل تقریباً ہر شخص موبائل فون استعمال کرتا ہے۔ کوئی موبائل سے پیسے بھیجتا ہے، کوئی آن لائن خریداری کرتا ہے، کوئی سوشل میڈیا چلاتا ہے اور کوئی اپنے ضروری کاموں کے لیے Gmail استعمال کرتا ہے۔ لیکن موبائل اور انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ آن لائن فراڈ کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔
پاکستان میں بھی لوگوں کو WhatsApp، SMS، Facebook، ای میل اور مختلف ویب سائٹس کے ذریعے جعلی پیغامات بھیجے جاتے ہیں۔ ان پیغامات میں کبھی انعام جیتنے کا لالچ دیا جاتا ہے، کبھی اکاؤنٹ بند ہونے کی دھمکی دی جاتی ہے اور کبھی کسی سرکاری ادارے یا بینک کا نام استعمال کیا جاتا ہے۔
بہت سے لوگ ایسے پیغامات کو سچ سمجھ کر لنک کھول لیتے ہیں۔ اس کے بعد ان سے پاس ورڈ، بینک کی معلومات یا OTP مانگا جا سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں ان کے اکاؤنٹس یا پیسوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس مضمون میں ہم آسان الفاظ میں سمجھیں گے کہ جعلی لنکس کیا ہوتے ہیں، آن لائن فراڈ کی پہچان کیسے کی جا سکتی ہے اور اپنے موبائل، اکاؤنٹس اور پیسوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔
جعلی لنک کیا ہوتا ہے؟
جعلی لنک ایسا ویب لنک ہوتا ہے جسے دھوکا دینے کے لیے بنایا گیا ہو۔ اس کا مقصد کسی شخص سے اس کی ذاتی معلومات حاصل کرنا، اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنا یا اسے مالی نقصان پہنچانا ہو سکتا ہے۔
ایسے لنکس اکثر کسی مشہور کمپنی، بینک، سرکاری ادارے یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے نام سے بھیجے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ پیغام اصلی ہے۔
مثال کے طور پر، آپ کو WhatsApp پر ایک پیغام ملتا ہے کہ آپ نے ایک قیمتی موبائل فون جیت لیا ہے۔ انعام حاصل کرنے کے لیے ایک لنک کھولنے کو کہا جاتا ہے۔ لنک کھولنے کے بعد آپ سے نام، موبائل نمبر، شناختی کارڈ کی معلومات یا کوئی خفیہ کوڈ مانگا جاتا ہے۔
یہ دھوکا ہو سکتا ہے۔ صرف کسی پیغام میں کمپنی کا نام یا لوگو ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ پیغام اصلی ہے۔
پاکستان میں آن لائن فراڈ کیسے کیا جاتا ہے؟
پاکستان میں آن لائن فراڈ کی مختلف شکلیں سامنے آتی ہیں۔ ہر جعلی پیغام ایک جیسا نہیں ہوتا، لیکن کچھ طریقے عام ہیں۔
انعام جیتنے کا جعلی پیغام
کبھی آپ کو SMS یا WhatsApp پر پیغام ملتا ہے کہ آپ نے انعامی رقم، موٹر سائیکل، موبائل فون یا کوئی اور قیمتی چیز جیت لی ہے۔
پیغام میں کہا جاتا ہے کہ انعام حاصل کرنے کے لیے لنک کھولیں یا پہلے کچھ رقم بھیجیں۔
مثال کے طور پر، کوئی شخص آپ کو کہتا ہے کہ آپ نے انعام جیتا ہے، لیکن انعام بھیجنے سے پہلے رجسٹریشن فیس ادا کرنا ضروری ہے۔
احتیاط: اگر آپ نے کسی مقابلے میں حصہ ہی نہیں لیا تو انعام جیتنے کے دعوے پر یقین نہ کریں۔ رقم بھیجنے یا اپنی ذاتی معلومات دینے سے پہلے متعلقہ ادارے کے اصل اور قابلِ اعتماد ذریعے سے تصدیق کریں۔
بینک یا موبائل اکاؤنٹ بند ہونے کی دھمکی
فراڈ کرنے والے کبھی بینک یا کسی مالی سروس کا نام استعمال کرکے پیغام بھیجتے ہیں کہ آپ کا اکاؤنٹ بند ہونے والا ہے۔
پیغام میں اکاؤنٹ جاری رکھنے کے لیے لنک کھولنے اور معلومات درج کرنے کو کہا جا سکتا ہے۔
ایسے پیغام سے گھبرا کر فوراً لنک نہ کھولیں۔ اپنے بینک یا متعلقہ سروس کی آفیشل ایپ استعمال کریں یا اس کی تصدیق شدہ ویب سائٹ پر دیے گئے رابطے سے معلومات حاصل کریں۔
جعلی Easypaisa یا JazzCash پیغام
پاکستان میں بہت سے لوگ موبائل کے ذریعے رقم بھیجتے اور وصول کرتے ہیں۔ اس وجہ سے مالی سروسز کے نام پر آنے والے مشکوک پیغامات سے خاص طور پر محتاط رہنا چاہیے۔
مثال کے طور پر، کوئی شخص آپ کو فون کرکے کہتا ہے کہ اس نے غلطی سے آپ کے اکاؤنٹ میں رقم بھیجی ہے اور آپ کو رقم واپس کرنے کے لیے ایک لنک کھولنا ہوگا۔
یا کوئی جعلی اسکرین شاٹ دکھا کر دعویٰ کرتا ہے کہ رقم بھیج دی گئی ہے۔
ایسی صورت میں:
- اپنے اکاؤنٹ میں رقم کی اصل آمد کی تصدیق کریں۔
- صرف اسکرین شاٹ دیکھ کر یقین نہ کریں۔
- کسی دوسرے شخص کے کہنے پر OTP یا PIN نہ بتائیں۔
- رقم واپس کرنے سے پہلے اپنی ٹرانزیکشن کی تفصیلات اچھی طرح چیک کریں۔
- مسئلہ ہو تو متعلقہ سروس کی آفیشل ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔
WhatsApp پر مشکوک لنکس
WhatsApp پر کبھی ایسے پیغامات آتے ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ اس لنک کو کھولنے سے آپ کو مفت انٹرنیٹ، انعام یا کسی خاص سروس کی سہولت ملے گی۔
بعض اوقات یہ پیغام کسی دوست یا رشتہ دار کے اکاؤنٹ سے بھی آ سکتا ہے۔ لیکن اگر اس شخص کا اکاؤنٹ کسی اور کے کنٹرول میں ہو تو اس کے ذریعے بھی فراڈ کیا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی مشکوک لنک بھیجے تو اس شخص سے الگ طریقے سے رابطہ کرکے پوچھیں کہ کیا اس نے واقعی یہ پیغام بھیجا ہے۔
جعلی نوکریوں اور آن لائن کمائی کے پیغامات
پاکستان میں بہت سے نوجوان گھر بیٹھے کام کرنا چاہتے ہیں۔ فراڈ کرنے والے اسی ضرورت کا فائدہ اٹھا کر جعلی نوکریوں اور آن لائن کمائی کے مواقع پیش کر سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر، کوئی شخص کہتا ہے کہ آپ روزانہ چند منٹ کام کرکے ہزاروں روپے کما سکتے ہیں، لیکن پہلے رجسٹریشن فیس جمع کروائیں۔
ہر آن لائن نوکری فراڈ نہیں ہوتی، لیکن اگر کوئی ادارہ کام دینے سے پہلے غیر واضح فیس مانگے، غیر حقیقی کمائی کا وعدہ کرے یا ذاتی معلومات پر زور دے تو اچھی طرح تحقیق کریں۔
جعلی لنک کی پہچان کیسے کریں؟
کسی بھی لنک کو کھولنے سے پہلے چند باتیں چیک کرنا مفید ہے۔
ویب سائٹ کا پتہ غور سے دیکھیں
فراڈ کرنے والے اصلی ویب سائٹ سے ملتا جلتا نام استعمال کر سکتے ہیں۔ کبھی نام کے کسی حرف کو بدل دیا جاتا ہے یا اضافی الفاظ شامل کیے جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر، کسی معروف کمپنی کے نام کے ساتھ غیر متعلقہ الفاظ یا عجیب حروف موجود ہو سکتے ہیں۔
لنک دیکھتے وقت:
- ویب سائٹ کے اصل نام پر غور کریں۔
- نام کی غلط املا یا غیر معمولی تبدیلی چیک کریں۔
- نامعلوم یا مختصر کیے گئے لنکس کو احتیاط سے لیں۔
- اگر لنک کسی بینک یا مالی سروس سے متعلق ہو تو اس کی آفیشل ایپ یا خود معلوم کردہ ویب سائٹ استعمال کریں۔
یاد رکھیں کہ صرف ویب سائٹ کے پتے میں HTTPS یا تالے کا نشان ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ویب سائٹ قابلِ اعتماد ہے۔ جعلی ویب سائٹس بھی HTTPS استعمال کر سکتی ہیں۔
پیغام میں جلدی کرنے کا دباؤ
جعلی پیغامات میں اکثر کہا جاتا ہے کہ آپ کے پاس صرف چند منٹ ہیں یا فوراً کارروائی نہ کرنے پر اکاؤنٹ بند ہو جائے گا۔
اس کا مقصد آپ کو سوچنے اور تصدیق کرنے کا وقت نہ دینا ہو سکتا ہے۔
اگر کوئی پیغام آپ کو گھبراہٹ میں فوری فیصلہ کرنے پر مجبور کرے تو رک جائیں۔ پہلے اس کی حقیقت معلوم کریں۔
ذاتی معلومات مانگنا
اگر کوئی نامعلوم ویب سائٹ آپ سے درج ذیل معلومات مانگے تو خاص احتیاط کریں:
- بینک اکاؤنٹ کی خفیہ معلومات
- ATM یا مالی اکاؤنٹ کا PIN
- OTP یا تصدیقی کوڈ
- ای میل یا سوشل میڈیا کا پاس ورڈ
- شناختی کارڈ کی تصویر یا غیر ضروری ذاتی معلومات
ہر معلومات کی درخواست لازماً فراڈ نہیں ہوتی، لیکن یہ ضرور دیکھیں کہ معلومات کیوں مانگی جا رہی ہیں اور کیا متعلقہ ادارہ واقعی قابلِ اعتماد ہے۔
کسی شخص کو فون پر اپنا OTP، پاس ورڈ یا PIN نہ بتائیں۔ اگر کسی سروس کو تصدیق درکار ہو تو صرف اس کی اصل ایپ یا آفیشل ویب سائٹ پر خود کارروائی کریں۔
پیغام بھیجنے والے کی شناخت چیک کریں
WhatsApp پر کسی دوست، رشتہ دار یا ادارے کے نام سے پیغام آنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ پیغام اصلی ہے۔
اگر کوئی شخص اچانک پیسے مانگے، مشکوک لنک بھیجے یا خفیہ معلومات طلب کرے تو اس سے کسی دوسرے قابلِ اعتماد ذریعے سے تصدیق کریں۔
موبائل کو آن لائن فراڈ سے محفوظ کیسے رکھیں؟
اپنے موبائل کو محفوظ رکھنے کے لیے مہنگا فون خریدنا ضروری نہیں۔ روزمرہ کی چند احتیاطیں بھی بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
موبائل اور ایپس اپ ڈیٹ رکھیں
اپنے موبائل کے سافٹ ویئر اور ایپس کو دستیاب آفیشل اپ ڈیٹس کے ذریعے اپ ڈیٹ رکھیں۔
اپ ڈیٹس میں سیکیورٹی کے مسائل کے حل بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ نامعلوم ویب سائٹس سے غیر ضروری ایپس یا APK فائلیں ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کریں۔
مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں
اپنے اہم اکاؤنٹس کے لیے ایسا پاس ورڈ رکھیں جس کا اندازہ لگانا مشکل ہو۔
مثلاً اپنے نام، تاریخِ پیدائش یا موبائل نمبر کو اکیلا پاس ورڈ نہ بنائیں۔
- ہر اہم اکاؤنٹ کے لیے الگ پاس ورڈ رکھیں۔
- پاس ورڈ کسی دوسرے شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
- جہاں ممکن ہو، دو مرحلوں والی تصدیق (Two-Step Verification) فعال کریں۔
- پاس ورڈ محفوظ رکھنے کے لیے قابلِ اعتماد پاس ورڈ مینیجر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
نامعلوم ایپس کو اجازت نہ دیں
بعض ایپس انسٹال ہوتے ہی رابطوں، تصاویر، SMS یا دیگر معلومات تک رسائی مانگتی ہیں۔
ہر اجازت ضروری نہیں ہوتی۔ ایپ کی ضرورت کے مطابق اجازت دیں اور وقتاً فوقتاً موبائل کی Settings میں جا کر ایپس کی Permissions چیک کریں۔
اگر کوئی ایپ غیر ضروری اجازتیں مانگ رہی ہو تو اسے استعمال کرنے سے پہلے اس کی ساکھ معلوم کریں۔
عوامی Wi-Fi استعمال کرتے وقت احتیاط کریں
کسی ہوٹل، بازار یا عوامی جگہ پر مفت Wi-Fi ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لازماً محفوظ ہے۔
عوامی نیٹ ورک پر نامعلوم ویب سائٹس کھولنے اور حساس معلومات درج کرنے سے گریز کریں۔ اپنے بینک یا مالی اکاؤنٹ کے لیے صرف HTTPS پر بھروسا کرنے کے بجائے اصل ایپ، درست ویب سائٹ اور محفوظ کنکشن کی تصدیق بھی کریں۔
موبائل پر اسکرین لاک لگائیں
اپنے موبائل پر PIN، پاس ورڈ یا کوئی مناسب اسکرین لاک ضرور رکھیں۔
اگر موبائل گم ہو جائے تو اس سے کسی دوسرے شخص کو آپ کی معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل ہونے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔
اگر غلطی سے جعلی لنک کھل جائے تو کیا کریں؟
سب سے پہلے گھبرائیں نہیں۔ صرف لنک کھول لینے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا اکاؤنٹ لازماً ہیک ہو گیا ہے۔ اصل خطرہ اس بات پر منحصر ہے کہ لنک کھولنے کے بعد آپ نے کیا کیا اور ویب سائٹ نے کیا کارروائی کی۔
اگر صرف لنک کھولا ہے
- ویب سائٹ مشکوک لگے تو اسے بند کر دیں۔
- اس پر کوئی معلومات درج نہ کریں۔
- کوئی فائل ڈاؤن لوڈ ہوئی ہو تو اسے کھولنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔
- موبائل یا براؤزر میں کوئی مشکوک سرگرمی نظر آئے تو اس کی جانچ کریں۔
اگر پاس ورڈ درج کر دیا ہے
اگر آپ نے کسی مشکوک ویب سائٹ پر اپنا پاس ورڈ درج کیا ہے تو کسی محفوظ ڈیوائس سے متعلقہ اکاؤنٹ کا پاس ورڈ تبدیل کریں۔
اگر یہی پاس ورڈ دوسرے اکاؤنٹس پر بھی استعمال کیا ہے تو وہاں بھی الگ اور مضبوط پاس ورڈ رکھیں۔
اکاؤنٹ کی سیکیورٹی سیٹنگز میں جا کر نامعلوم ڈیوائسز یا سیشنز کو سائن آؤٹ کریں اور دو مرحلوں والی تصدیق فعال کریں، جہاں یہ سہولت موجود ہو۔
اپنے Gmail اکاؤنٹ کو ہیکنگ سے محفوظ رکھنے اور اس کی سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے ہماری یہ گائیڈ بھی پڑھیں: Protect Gmail Account From Hacking۔
اگر OTP یا PIN بتا دیا ہے
اگر آپ نے کسی کو OTP، PIN یا مالی اکاؤنٹ کی خفیہ معلومات بتا دی ہیں تو فوراً متعلقہ بینک یا سروس کے آفیشل ذریعے سے رابطہ کریں۔
ضرورت کے مطابق اکاؤنٹ یا کارڈ کو محفوظ یا عارضی طور پر بلاک کروائیں اور حالیہ ٹرانزیکشنز چیک کریں۔
اگر رقم کٹ گئی ہو تو ٹرانزیکشن کی تفصیلات اور پیغامات محفوظ رکھیں تاکہ متعلقہ ادارے کو شکایت درج کراتے وقت مدد مل سکے۔
اگر موبائل میں مشکوک ایپ انسٹال ہو گئی ہے
اگر کسی لنک سے نامعلوم ایپ انسٹال کی ہے تو اسے مزید استعمال نہ کریں۔ اس کی اجازتیں چیک کریں اور ضرورت پڑنے پر اسے ہٹا دیں۔
اگر ایپ کو Accessibility، SMS یا دیگر حساس اجازتیں دی گئی ہیں تو انہیں بند کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ایپ حذف نہیں ہو رہی یا موبائل غیر معمولی سرگرمی دکھا رہا ہے تو کسی قابلِ اعتماد ٹیکنیکل ماہر سے مدد لیں۔
پاکستان میں آن لائن فراڈ کی شکایت کہاں کریں؟
اگر آپ کے ساتھ آن لائن فراڈ ہوا ہے تو خاموش رہنے کے بجائے متعلقہ ادارے سے رابطہ کریں۔
- بینک یا مالی سروس: اگر رقم کٹی ہے یا اکاؤنٹ کے غلط استعمال کا خدشہ ہے تو فوراً اپنے بینک یا متعلقہ سروس کی آفیشل ہیلپ لائن پر شکایت کریں۔
- سائبر کرائم کی شکایت: پاکستان میں سائبر کرائم سے متعلق شکایت کے لیے متعلقہ سرکاری ادارے، مثلاً نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA)، کے آفیشل ذرائع سے موجودہ طریقۂ شکایت معلوم کریں۔
- ثبوت محفوظ رکھیں: مشکوک پیغام، فون نمبر، ویب سائٹ کا پتہ، ٹرانزیکشن کی رسید اور متعلقہ اسکرین شاٹس محفوظ رکھیں۔
- خفیہ معلومات شیئر نہ کریں: شکایت کرتے وقت بھی اپنا پاس ورڈ، PIN یا OTP کسی نامعلوم شخص کو نہ بتائیں۔
شکایت درج کرنے کے لیے کسی غیر تصدیق شدہ نمبر یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھروسا نہ کریں۔ متعلقہ ادارے کی آفیشل ویب سائٹ سے رابطے کی تفصیلات حاصل کریں۔
بچوں اور گھر کے دوسرے افراد کو بھی آگاہ کریں
آن لائن فراڈ سے بچنے کے لیے صرف اپنے موبائل کو محفوظ رکھنا کافی نہیں۔ گھر کے دوسرے افراد کو بھی بنیادی احتیاطیں سمجھانا ضروری ہے۔
خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کو بتائیں کہ:
- نامعلوم شخص کے بھیجے ہوئے لنک پر فوراً کلک نہ کریں۔
- مفت انعام یا غیر معمولی کمائی کے دعوے پر تحقیق کریں۔
- کسی کو OTP، PIN یا پاس ورڈ نہ بتائیں۔
- آن لائن کسی شخص کے کہنے پر رقم بھیجنے سے پہلے تصدیق کریں۔
- اگر کوئی مشکوک پیغام آئے تو گھر کے کسی قابلِ اعتماد فرد سے مشورہ کریں۔
مثال کے طور پر، اگر گھر کے کسی بزرگ کو موبائل پر پیغام ملے کہ ان کا اکاؤنٹ بند ہونے والا ہے تو انہیں فوراً لنک کھولنے کے بجائے خاندان کے کسی فرد کی مدد سے اصل ادارے سے تصدیق کرنی چاہیے۔
آن لائن خریداری کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟
پاکستان میں بہت سے لوگ سوشل میڈیا پیجز اور آن لائن اسٹورز سے کپڑے، جوتے، موبائل کی اشیا اور دیگر چیزیں خریدتے ہیں۔ ہر آن لائن دکان فراڈ نہیں ہوتی، لیکن نامعلوم فروخت کنندہ سے خریداری کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
- دکان کا نام، رابطے کی تفصیلات اور سابقہ صارفین کے جائزے چیک کریں۔
- صرف خوبصورت تصاویر یا کم قیمت دیکھ کر آرڈر نہ دیں۔
- اگر قیمت عام مارکیٹ سے بہت کم ہو تو وجہ معلوم کریں۔
- ادائیگی سے پہلے واپسی اور رقم واپس کرنے کی پالیسی پڑھیں۔
- کسی نامعلوم شخص کو کارڈ کی مکمل تفصیلات یا OTP نہ دیں۔
- اگر ممکن ہو تو قابلِ اعتماد ادائیگی کا طریقہ استعمال کریں۔
مثال کے طور پر، اگر کسی Facebook پیج پر نیا موبائل مارکیٹ سے بہت کم قیمت پر مل رہا ہو اور فروخت کنندہ فوراً ایڈوانس رقم مانگے، تو پہلے دکان کی حقیقت اور ساکھ معلوم کریں۔
جعلی لنکس کے بارے میں عام سوالات
کیا صرف لنک کھولنے سے موبائل ہیک ہو جاتا ہے؟
ضروری نہیں۔ بعض جعلی ویب سائٹس صرف معلومات چرانے کے لیے بنائی جاتی ہیں، جبکہ کچھ نقصان دہ فائلیں ڈاؤن لوڈ کروانے یا سافٹ ویئر کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ اگر آپ نے صرف لنک کھولا ہے تو گھبرانے کے بجائے دیکھیں کہ کوئی معلومات درج کی، فائل ڈاؤن لوڈ کی یا کوئی اجازت دی تھی یا نہیں۔
کیا WhatsApp پر آنے والا ہر لنک خطرناک ہوتا ہے؟
نہیں، ہر لنک خطرناک نہیں ہوتا۔ لیکن اگر لنک نامعلوم شخص سے آئے، غیر معمولی انعام کا دعویٰ کرے یا خفیہ معلومات مانگے تو اسے کھولنے سے پہلے تصدیق کریں۔
کیا OTP کسی کو بتانا محفوظ ہے؟
عام طور پر اپنا OTP کسی شخص کو فون یا پیغام پر نہیں بتانا چاہیے۔ OTP کسی اکاؤنٹ یا ٹرانزیکشن کی تصدیق کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ اگر کسی نے OTP مانگا ہے تو متعلقہ سروس کی آفیشل ہدایات خود چیک کریں۔
کیا جعلی ویب سائٹ پر اپنا نام لکھنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے؟
یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ویب سائٹ کس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے اور آپ نے کون سی معلومات دی ہیں۔ نام، موبائل نمبر اور دیگر معلومات کو دوسری معلومات کے ساتھ ملا کر دھوکا دینے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس لیے نامعلوم ویب سائٹس پر غیر ضروری ذاتی معلومات درج نہ کریں۔
کیا صرف HTTPS والی ویب سائٹ محفوظ ہوتی ہے؟
نہیں۔ HTTPS کا مطلب یہ ہے کہ براؤزر اور ویب سائٹ کے درمیان رابطہ انکرپٹڈ ہے، لیکن اس سے ویب سائٹ کے مالک کی ساکھ یا اس کے مقصد کی ضمانت نہیں ملتی۔ جعلی ویب سائٹس بھی HTTPS استعمال کر سکتی ہیں۔
آخری بات
موبائل اور انٹرنیٹ ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ ہم ان کے ذریعے پیسے بھیجتے ہیں، خریداری کرتے ہیں اور اپنے روزمرہ کے کئی کام مکمل کرتے ہیں۔ اسی لیے آن لائن سیکیورٹی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
اگر آپ کو کوئی مشکوک پیغام ملے تو فوراً کارروائی کرنے کے بجائے رکیں، معلومات کی تصدیق کریں اور اپنی ذاتی معلومات محفوظ رکھیں۔ انعام، مفت تحفے یا فوری کمائی کے دعوے پر بغیر تحقیق کے یقین نہ کریں۔
یاد رکھیں، کسی بھی لنک کو کھولنے سے پہلے اس کی حقیقت جانچنا اور اپنا OTP، PIN یا پاس ورڈ محفوظ رکھنا آن لائن فراڈ سے بچنے کی اہم عادتیں ہیں۔
اپنے گھر والوں کو بھی یہ معلومات بتائیں تاکہ وہ بھی انٹرنیٹ استعمال کرتے وقت محتاط رہیں۔ تھوڑی سی احتیاط آپ کو بڑے نقصان سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔
