اسلام آباد (خصوصی وی رپورٹ): اگر آپ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد یا راولپنڈی (جڑواں شہروں) کے رہائشی ہیں، یا آج کسی کام کے سلسلے میں یہاں کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو یہ آرٹیکل آپ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ جڑواں شہروں میں ایک بار پھر سیاسی درجہ حرارت بڑھ چکا ہے، اور اس کا سارا اثر سڑکوں اور عام شہریوں کی نقل و حرکت پر پڑ رہا ہے۔
سیاسی جماعتوں کے ممکنہ احتجاج اور لانگ مارچ کی کال کے بعد، ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں، کئی مقامات پر خندقیں کھودنے کی اطلاعات ہیں، اور اہم ترین سڑکوں کو خاردار تاروں اور رکاوٹوں کی مدد سے بند کیا جا رہا ہے۔ اس اچانک صورتحال کی وجہ سے عام شہریوں، نوکری پیشہ افراد اور خاص طور پر طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
آئیے آپ کو راولپنڈی اور اسلام آباد کے بند راستوں، متبادل روٹس اور انتظامیہ کے فیصلوں کی مکمل اور تفصیلی صورتحال سے آگاہ کرتے ہیں تاکہ آپ کسی بھی بڑی پریشانی یا ٹریفک جام سے بچ سکیں۔
ریڈ زون کی صورتحال: سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ
اسلام آباد کا دل کہلانے والا 'ریڈ زون' جہاں پارلیمنٹ ہاؤس، سپریم کورٹ، وزیراعظم ہاؤس اور اہم ترین سفارت خانے موجود ہیں، اس وقت مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر متعلقہ شخص یا مظاہرین کو اس حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
- مکمل بند راستے: سرینا چوک، نادرا چوک، ایکسپریس چوک اور چائنا چوک کو کنٹینرز لگا کر عام ٹریفک کے لیے مکمل سیل کر دیا گیا ہے۔
- سخت چیکنگ: اگر آپ ریڈ زون میں واقع کسی سرکاری دفتر یا نجی ادارے کے ملازم ہیں، تو آپ کو صرف ماریٹ چوک یا مخصوص راستوں سے، اپنی دفتری شناختی کارڈ (Office ID Card) دکھانے اور سخت چیکنگ کے بعد ہی داخل ہونے دیا جائے گا۔
جڑواں شہروں کے مین پوائنٹس (جہاں کنٹینرز لگ چکے ہیں)
راولپنڈی اور اسلام آباد کو آپس میں جوڑنے والے اہم ترین راستے ہمیشہ ایسے احتجاج کی زد میں آتے ہیں۔ آج کی تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے:
- فیض آباد انٹرچینج: یہ جڑواں شہروں کا سب سے مصروف ترین انٹرچینج ہے۔ یہاں مری روڈ اور ایکسپریس وے کو ملانے والے پوائنٹس پر سکیورٹی کی بھاری نفری تعینات ہے۔ کنٹینرز سڑک کے کناروں پر کھڑے کر دیے گئے ہیں اور کسی بھی وقت ٹریفک کو روکنے کے لیے انہیں سڑک کے بیچوں بیچ لایا جا سکتا ہے۔ فی الحال یہاں ٹریفک کی روانی سست ہے۔
- چنگی نمبر 26 اور جی ٹی روڈ: خیبر پختونخوا اور اٹک کی طرف سے اسلام آباد میں داخل ہونے والی گاڑیوں کو روکنے کے لیے چنگی نمبر 26 پر سخت ناکہ بندی کی گئی ہے۔ یہاں سڑک کے اطراف میں خندقیں کھودنے کی بھی اطلاعات ہیں تاکہ کوئی بھی گاڑی یا قافلہ زبردستی شہر میں داخل نہ ہو سکے۔
- گولڑہ موڑ اور کشمیر ہائی وے (سرینگر ہائی وے): موٹروے سے آنے والی ٹریفک کے لیے سکیورٹی سخت ہے۔ گولڑہ موڑ کے پاس سکیورٹی بیرئیرز لگا دیے گئے ہیں۔
- روات ٹی چوک: لاہور اور جہلم کی طرف سے آنے والی ٹریفک کے لیے روات ٹی چوک پر ناکہ بندی کی گئی ہے۔ سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے یہاں بھی کنٹینرز تیار کھڑے ہیں۔
تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز
اس کشیدہ صورتحال کا سب سے بڑا نقصان عام شہریوں اور کاروبار کو ہوتا ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے حالیہ بیان میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسے دھرنوں اور راستوں کی بندش سے ملکی معیشت کو روزانہ 120 ارب روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
سکیورٹی الرٹ کے باعث جڑواں شہروں کے کئی حساس علاقوں میں نجی اسکولوں اور کالجوں نے آج چھٹی کا اعلان کر دیا ہے یا آن لائن کلاسز کی طرف منتقل ہو گئے ہیں۔ بلیو ایریا، صدر راولپنڈی اور مری روڈ کے بڑے کاروباری مراکز کے تاجروں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے، اور دکانیں معمول سے کم کھلنے کی توقع ہے۔
میٹرو بس سروس کی جزوی معطلی
عام عوام اور سٹوڈنٹس کے لیے سفر کا سب سے سستا اور آسان ذریعہ میٹرو بس ہے۔ سکیورٹی خدشات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، انتظامیہ نے راولپنڈی صدر سے لے کر اسلام آباد سیکرٹریٹ تک چلنے والی میٹرو بس سروس کو جزوی طور پر معطل کر دیا ہے۔ کچھ مقامات پر صرف اسلام آباد کے اندرونی اسٹیشنز فعال ہیں، لیکن راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والی بسیں فی الحال روکی گئی ہیں تاکہ بسوں کو کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔
مسافروں کے لیے اہم ٹریفک ایڈوائزری (پریشانی سے کیسے بچیں؟)
اگر آپ کا سفر کرنا انتہائی ضروری ہے، تو اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ ان ہدایات پر لازمی عمل کریں:
- ائیرپورٹ جانے والے مسافر: اگر آپ کو نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ جانا ہے، تو مری روڈ یا جی ٹی روڈ کے بجائے سرینگر ہائی وے کا استعمال کریں۔ یاد رکھیں کہ راستوں میں چیکنگ کی وجہ سے وقت لگ سکتا ہے، اس لیے اپنی فلائٹ کے وقت سے کم از کم 2 سے 3 گھنٹے پہلے گھر سے نکلیں۔
- غیر ضروری سفر سے گریز: ٹریفک حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خواتین اور بچوں کے ساتھ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، کیونکہ کسی بھی وقت راستے اچانک بند ہونے سے آپ فیملی کے ساتھ سڑک پر پھنس سکتے ہیں۔
- پولیس الرٹس پر نظر رکھیں: سفر شروع کرنے سے پہلے اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس کے آفیشل ٹویٹر (X) ہینڈلز لازمی چیک کریں یا ریڈیو ایف ایم 92.6 سنیں، جہاں لمحہ بہ لمحہ راستوں کی صورتحال اپ ڈیٹ کی جا رہی ہے۔
وفاقی حکومت کا موقف
دوسری طرف، وفاقی حکومت اور وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے یا شہریوں کے حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ راستے کھلے رکھنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے، لیکن امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی اقدامات ناگزیر ہیں۔
جڑواں شہروں کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ جیسے ہی کسی روڈ کو مکمل بند یا کھولنے کی نئی معلومات سامنے آئے گی، ہم اسی آرٹیکل میں فوری اپ ڈیٹ کر دیں گے۔ آپ کا آج کا سفر کیسا رہا؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں ہمارے ساتھ اپنی رائے لازمی شیئر کریں۔
