پت جھڑ کا موسم شروع ہوتے ہی جڑواں شہروں، اسلام آباد اور راولپنڈی کی فضا میں ایک عجیب سی بے چینی اور سنسنی پھیل جاتی ہے۔ لیکن اس بار یہ بے چینی موسم کی نہیں، بلکہ سیاسی تپش کی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف ایک بڑے اور فیصلہ کن لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس ایک اعلان نے جہاں سیاسی میدان میں ہلچل مچا دی ہے، وہاں وفاقی دارالحکومت کے چوراہوں اور گلیوں کو ایک بار پھر لوہے کے بڑے بڑے کنٹینرز کے حصار میں لا کھڑا کیا ہے。 عام شہری، جو روزانہ رزق کی تلاش میں ان سڑکوں پر نکلتا ہے، ایک بار پھر اسی تذبذب کا شکار ہے کہ آنے والا کل اس کے لیے کیا لے کر آئے گا۔
جب شہر کنٹینرز کا جنگل بن جائے (The Container City)
ایک سفارت کار نے کچھ عرصہ پہلے مذاقاً کہا تھا کہ "اسلام آباد میں پانچ موسم ہوتے ہیں: گرمی، سردی، بہار، خزاں اور کنٹینرز۔" آج کل جڑواں شہروں کی سڑکوں پر نظر دوڑائیں تو یہ بات بالکل سچ محسوس ہوتی ہے۔ انتظامیہ نے ممکنہ مارچ اور دھرنے کو روکنے کے لیے ایک سخت سیکیورٹی پلان ترتیب دیا ہے
- ذرائع کے مطابق، جڑواں شہروں کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کرنے کے لیے 2,000 سے زائد تجارتی کنٹینرز پوزیشن پر لا کر کھڑے کر دیے گئے ہیں
- ریڈ زون (Red Zone) اور ڈی چوک کو مکمل طور پر عام شہریوں کے لیے بند کیا جا رہا ہے
- سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کے تحت 23,000 سے زائد سیکیورٹی اہلکار، جن میں پنجاب پولیس، سندھ پولیس اور ایف سی کے دستے شامل ہیں، شہر کے چپے چپے پر تعینات کیے جا رہے ہیں
لیکن ان کنٹینرز کے پیچھے ایک اور کہانی بھی چھپی ہے۔ یہ لوہے کے ڈبے صرف راستے نہیں روکتے، بلکہ یہ ٹرانسپورٹرز کے کاروبار کو بھی بریک لگا دیتے ہیں۔ کئی ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ان کی کھڑی گاڑیوں میں قیمتی سامان اور ایکسپورٹ کا مال لوڈ ہے، جو وقت پر منزل تک نہ پہنچنے کی وجہ سے خراب ہونے اور بھاری معاشی نقصان کا باعث بن رہا ہے
عام آدمی کی زندگی پر اثر: اسکول، ہسپتال اور روزگار
کسی بھی سیاسی احتجاج کا سب سے پہلا اور براہِ راست اثر ایک عام دیہاڑی دار، نوکری پیشہ انسان اور معصوم بچوں پر پڑتا ہے۔ انتظامیہ نے باہر سے آنے والے ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں کی رہائش کے لیے اسلام آباد کی متعدد سرکاری عمارتوں اور اسکولوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے، جس کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں。 والدین پریشان ہیں کہ بچوں کی پڑھائی کا حرج ہو رہا ہے، جبکہ دوسری طرف جڑواں شہروں کے بڑے ہسپتالوں میں ہائی الرٹ اور ایمرجنسی نافذ کر کے ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں
فیض آباد انٹرچینج، مری روڈ اور چونگی نمبر 26 جیسے مصروف ترین مقامات، جہاں روزانہ لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں، وہاں اب بھاری رکاوٹیں نظر آ رہی ہیں。 صبح کے وقت دفتر جانے والے ملازمین اور شام کو تھکے ہارے گھر لوٹنے والے مزدوروں کے لیے یہ سفر اب کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں رہا۔ متبادل لنک روڈز پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں اور گھنٹوں کا ٹریفک جام شہریوں کے صبر کا امتحان لے رہا ہے
سیاسی تناؤ اور کریک ڈاؤن (Political Tensions & Stance)
دوسری طرف، سیاسی محاذ پر بھی تلخی اپنے عروج پر ہے۔ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن دیکھنے میں آ رہا ہے، جس میں متعدد مقامی رہنماؤں سمیت عمران خان کی بہنوں—علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی—کو حراست میں لے کر جیل منتقل کیا جا چکا ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا یہ سخت بیان سامنے آیا ہے کہ کسی بھی صورت کسی جتھے کو قانون ہاتھ میں لینے یا دارالحکومت کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی。
اس کے برعکس، پی ٹی آئی کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ یہ لانگ مارچ 100% پرامن، آئینی اور جمہوری ہوگا。 ان کا کہنا ہے کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام، آئینی حقوق کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی ان کا بنیادی حق ہے، اور وہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود 27 ستمبر کو اسلام آباد پہنچ کر رہیں گے。 اگرچہ پسِ پردہ مذاکرات اور مارچ کے التوا کی کچھ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں، لیکن تاحال دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر سختی سے ڈٹے ہوئے ہیں
مزید پڑھیں 👇
حاصلِ کلام (Conclusion)
سیاست میں فتح اور شکست تو چلتی رہتی ہے، لیکن اس تمام کھینچا تانی میں جو سب سے زیادہ پستا ہے، وہ ہے پاکستان کا عام شہری۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے باسی اس وقت سہمے ہوئے راستوں اور بند دکانوں کو دیکھ کر بس یہی دعا کر رہے ہیں کہ یہ سیاسی طوفان پرامن طریقے سے گزر جائے اور جڑواں شہروں کی زندگی دوبارہ اپنے معمول پر آ سکے۔ سڑکوں پر لگے یہ کنٹینرز کب ہٹیں گے، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن اس وقت پورا ملک 27 ستمبر کی طرف دیکھ رہا ہے۔
