رپورٹ: خصوصی نمائندہ، ٹوڈے اردو نیوز
پبلشنگ کی تاریخ: 24 ستمبر 2026
پاکستان کی سیاسی فضا ایک بار پھر شدید ہیجان اور تناؤ کی گرفت میں آ چکی ہے۔ ایک طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے 27 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف ایک "تاریخی" لانگ مارچ کا حتمی اعلان کر رکھا ہے، تو دوسری طرف حکومت اور انتظامیہ نے بھی اس مارچ کو روکنے اور جڑواں شہروں میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے。 اس وقت جڑواں شہروں (راولپنڈی اور اسلام آباد) سمیت پورے پنجاب کی سڑکوں پر ایک عجیب سا سکوت اور خوف کا ماحول بنتا جا رہا ہے
پاکستان کی سیاسی فضا ایک بار پھر شدید ہیجان اور تناؤ کی گرفت میں آ چکی ہے۔ ایک طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے 27 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف ایک "تاریخی" لانگ مارچ کا حتمی اعلان کر رکھا ہے، تو دوسری طرف حکومت اور انتظامیہ نے بھی اس مارچ کو روکنے اور جڑواں شہروں میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے。 اس وقت جڑواں شہروں (راولپنڈی اور اسلام آباد) سمیت پورے پنجاب کی سڑکوں پر ایک عجیب سا سکوت اور خوف کا ماحول بنتا جا رہا ہے
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ اور سیکیورٹی الرٹ
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ حالیہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پورے صوبے میں 23 ستمبر سے 5 اکتوبر تک (13 دنوں کے لیے) دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت صوبے بھر میں کسی بھی عوامی جگہ، سڑک، شاہراہ، یا موٹر وے پر 5 یا 5 سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے، کسی بھی قسم کے جلسے، جلوس، دھرنے یا سیاسی ریلی پر مکمل پابندی عائد ہوگی。 حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدامات کسی سیاسی انتقام کے لیے نہیں، بلکہ انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق امن و امان کی سنگین صورتحال اور ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر اٹھائے گئے ہیں
امن کو برقرار رکھنے کے لیے نہ صرف پولیس کی بھاری نفری کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، بلکہ راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی جیسے حساس اضلاع میں پاکستان رینجرز کی خدمات بھی طلب کر لی گئی ہیں
جڑواں شہروں اور اٹک میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی
اس پورے سیکیورٹی پلان میں سب سے بڑا جھٹکا عام شہریوں کے لیے موبائل سگنلز اور انٹرنیٹ کی متوقع بندش ہے。 معتبر ذرائع کے مطابق، محکمہ داخلہ پنجاب نے وفاقی وزارتِ داخلہ سے باقاعدہ درخواست کی ہے کہ 26 اور 27 ستمبر کو راولپنڈی، اسلام آباد اور اٹک کے مخصوص اور حساس علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کو ڈاؤن گریڈ یا مکمل طور پر جام (Jam) کر دیا جائے
تکنیکی ماہرین اور انتظامیہ کا ماننا ہے کہ احتجاج کے دوران سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی افواہوں اور کارروائیوں کو روکنے کے لیے نیٹ ورک کی بندش سب سے کارآمد ہتھیار ہوتی ہے。 تاہم، اس فیصلے کی خبر نے عام شہریوں، خاص طور پر آن لائن کاروبار کرنے والے نوجوانوں، طالب علموں اور دیہاڑی دار طبقے کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے جن کا روزگار انٹرنیٹ سے جڑا ہوا ہے
کنٹینرز کی واپسی اور بند راستے: جڑواں شہروں کے باسی محصور
راولپنڈی اور اسلام آباد کو آپس میں جوڑنے والے اہم راستے اور موٹر ویز پر ایک بار پھر بڑے بڑے لوہے کے کنٹینرز پہنچنا شروع ہو چکے ہیں。 اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق، اسلام آباد-پشاور موٹر وے، اسلام آباد-ڈیرہ اسماعیل خان موٹر وے اور جی ٹی روڈ کو مختلف مقامات سے عام ٹریفک کے لیے بند کیا جا رہا ہے
یہ وہ سڑکیں ہیں جہاں سے روزانہ ہزاروں لوگ روزگار، تعلیم اور علاج کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرتے ہیں۔ کنٹینرز لگنے کی وجہ سے بدترین ٹریفک جام اور راستوں کی طوالت نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔ فیض آباد انٹرچینج اور مری روڈ کے قریبی دکانداروں کا کہنا ہے کہ "جب بھی کوئی مارچ آتا ہے، ہمارے کاروبار ہفتوں کے لیے ٹھپ ہو جاتے ہیں اور ہمیں دکانوں کے کرائے نکالنا بھی مشکل ہو جاتا ہے"۔
پی ٹی آئی کا موقف: "مارچ ہر صورت ہوگا"
دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور اراکینِ پارلیمنٹ کا عزم برقرار ہے۔ پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ لانگ مارچ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اور پرامن مارچ ہوگا。 انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ان کے وزراء، ارکانِ اسمبلی اور کارکنوں کو ہراساں کر رہی ہے اور اب تک سینکڑوں کارکنوں کو بلاوجہ حراست میں لیا جا چکا ہے
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ راستوں کی بندش، انٹرنیٹ پر پابندیاں یا گرفتاریوں کا ڈر ان کے کارکنوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتا اور وہ اپنے کپتان کی رہائی تک پیچھے نہیں ہٹیں گے。 تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ مقتدر حلقوں اور حکومت کے ساتھ بات چیت اور مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتے
شہری زندگی پر اثرات اور عوامی ردِعمل
اس سیاسی رسہ کشی میں اگر کوئی سب سے زیادہ پس رہا ہے، تو وہ پاکستان کا عام اور غریب شہری ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں راستوں کی بندش سے سبزیوں، پھلوں اور دودھ جیسی روزمرہ اشیاء کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے قیمتیں مزید بڑھنے کا ڈر ہے۔ والدین پریشان ہیں کہ جمعہ اور ہفتے کو بچوں کے اسکول کھلے رہیں گے یا نہیں، اور نوکری پیشہ افراد اس فکر میں ہیں کہ وہ دفاتر کیسے پہنچیں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے نام پر پورے پورے شہروں کو لاک ڈاؤن کر دینا اور انٹرنیٹ بند کر دینا مستقل حل نہیں ہے. اس سے نہ صرف ملکی معیشت کو کروڑوں روپے کا روزانہ نقصان ہوتا ہے بلکہ دنیا بھر میں ملک کا ایک منفی امیج بھی جاتا ہے.حکومت اور اپوزیشن دونوں کو چاہیے کہ وہ بیٹھ کر کوئی پرامن اور سیاسی راستہ نکالیں تاکہ عام عوام کو اس ذہنی اور معاشی اذیت سے بچایا جا سکے
اگر آپ 26 یا 27 ستمبر کو جڑواں شہروں یا اٹک کے گردونواح میں سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو انتظامیہ کی ہداہت کے مطابق اپنے سفر کی منصوبہ بندی بہت دھیان سے کریں اور غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے سے گریز کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال یا ٹریفک کے بڑے تعطل سے بچا جا سکے
