جمعرات، 24 ستمبر، 2026

کیا مصنوعی ذہانت دنیا میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ ہے؟ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا بڑا انتباہ

AI weapons global arms race Pakistan United Nations

  ایک نئی اور خطرناک عالمی دوڑ کا آغاز۔ 
انسان نے جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی ایجاد کی، اس کا مقصد انسانی زندگیوں کو آسان بنانا تھا۔ پہیہ ہو، بجلی ہو یا انٹرنیٹ—ان سب نے انسانی تاریخ کا رخ بدلا۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی عظیم طاقت انسان کے ہاتھ لگی، اس نے سب سے پہلے اسے دوسرے انسانوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنے کا سوچا۔ آج ہم تاریخ کے ایک ایسے ہی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں "مصنوعی ذہانت" یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (Artificial Intelligence) ہماری دنیا کو بدل رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجی صرف انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال ہوگی، یا یہ تباہی کا ایک نیا اور خوفناک باب کھولنے جا رہی ہے؟
اسی سنگین اور حساس موضوع پر نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کا ایک انتہائی اہم اور ہنگامی بریفنگ سیشن منعقد ہوا۔ فرانس کی صدارت میں ہونے والے اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں جہاں دنیا بھر کی بڑی بڑی AI کمپنیوں (جیسے OpenAI اور Anthropic) کے سربراہان موجود تھے، وہاں پاکستان کی جانب سے ایک ایسی آواز اٹھائی گئی جس نے عالمی طاقتوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سلامتی کونسل کے سامنے پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے دنیا کو ایک بہت بڑے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

   اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا بیانیہ: اسحاق ڈار کا اہم خطاب
سیشن سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ "ہمیں ہر حال میں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت دنیا کے ممالک کے درمیان ہتھیاروں کی ایک نئی اور نہ رکنے والی دوڑ نہ بن جائے"۔ ان کا یہ بیان محض ایک سیاسی جملہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے وہ گہرے خدشات چھپے ہیں جن کا سامنا اس وقت پوری دنیا کو ہے۔
پاکستان نے واضح کیا کہ جس طرح ماضی میں ایٹمی ہتھیاروں یا جدید میزائل سسٹمز کی دوڑ نے دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالا، بالکل اسی طرح اگر AI کو بلا روک ٹوک اور بغیر کسی بین الاقوامی قانون کے عسکری مقاصد کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا، تو دنیا ایک ایسی تباہی کی طرف بڑھ جائے گی جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی۔
  جدید جنگ اور 'فورس ملٹی پلائر' (Force Multiplier) کا تصور
اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں AI کو ایک "فورس ملٹی پلائر" (Force Multiplier) اور دوہرے استعمال (Dual-use) کی ٹیکنالوجی قرار دیا۔ عسکری زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ AI روایتی ہتھیاروں کی طاقت کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، آج ایسے ڈرونز اور روبوٹس تیار کیے جا رہے ہیں جو خودکار طریقے سے، یعنی بغیر کسی انسانی مداخلت کے، یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کس پر حملہ کرنا ہے اور کسے مارنا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ ٹیکنالوجی جدید جنگ کا ایک نیا باب لکھ رہی ہے۔ اگر فیصلے کرنے کی یہ طاقت انسانوں کے بجائے کمپیوٹر الگورتھم کے ہاتھ میں دے دی گئی، تو کسی بھی تیکنیکی خرابی یا غلط حساب کتاب (Miscalculation) کی وجہ سے سیکنڈوں میں ایک ایسی جنگ چھڑ سکتی ہے جس پر انسان کا کوئی کنٹرول نہیں ہوگا۔ فوجی میدان میں فیصلوں کے لیے جو وقت ملتا ہے، AI اس وقت کو اتنا کم کر دیتی ہے کہ انسان کو سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا، اور یہی بات بین الاقوامی سلامتی کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

  عالمی برادری کے لیے پاکستان کی 3 بڑی تجاویز
پاکستان نے سلامتی کونسل کے سامنے صرف خطرات کا ذکر نہیں کیا، بلکہ اس مسئلے کے حل کے لیے انتہائی عملی تجاویز بھی پیش کیں۔ ان تجاویز کو اگر عالمی سطح پر اپنایا جائے تو AI کے منفی اثرات سے بچا جا سکتا ہے:
  1. انسانی کنٹرول کا برقرار رہنا (Human in the Loop): پاکستان کا پہلا اور سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ AI کے ڈیزائن، اس کی تیاری اور عسکری میدان میں اس کے انضمام (Integration) کے تمام مراحل میں حتمی فیصلہ اور کنٹرول ہمیشہ انسان کے پاس ہی رہنا چاہیے۔ مشینوں کو یہ حق کبھی نہیں ملنا چاہیے کہ وہ انسانی جانوں کا فیصلہ خود کریں۔
  2. بین الاقوامی ضابطے اور باؤنڈریز (Regulations and Guardrails): دنیا کو فوری طور پر ایسے سخت قوانین اور بین الاقوامی معاہدے کرنے کی ضرورت ہے جو یہ طے کریں کہ کوئی بھی ملک عسکری میدان میں کس حد تک AI کا استعمال کر سکتا ہے۔ جس طرح کیمیکل یا حیاتیاتی ہتھیاروں پر پابندی ہے، اسی طرح خودکار مہلک ہتھیاروں پر بھی کڑی نگرانی ہونی چاہیے۔
  3. ٹیکنالوجی کی منصفانہ تقسیم (Equitable Access): اسحاق ڈار نے ترقی پذیر اور غریب ممالک کا مقدمہ لڑتے ہوئے کہا کہ حفاظت یا قوانین کے نام پر ایسا ماحول نہیں بننا چاہیے جہاں چند امیر ممالک ٹیکنالوجی پر اجارہ داری قائم کر لیں اور غریب ملکوں پر پابندیاں لگا دی جائیں۔ انہوں نے اسے "ٹیکنالوجیکل اخراج" (Technological Exclusion) کا نام دیا اور کہا کہ ترقی اور امن کے لیے تمام ممالک کو AI تک منصفانہ رسائی ملنی چاہیے۔

   عالمی تعاون: 'وائیکو' (WAICO) میں پاکستان کی شمولیت
ایک اور بڑی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان نے چین کی جانب سے شروع کیے گئے عالمی اقدام "ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کوآپریشن آرگنائزیشن" (WAICO) میں بطور بانی رکن شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا بھر میں AI کی ترقی کو کسی ایک ملک کی جاگیر بنانے کے بجائے ایک مشترکہ اور پرامن مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ پاکستان کا اس تنظیم کا حصہ بننا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کی مخالفت نہیں کر رہے، بلکہ ہم اس کے ذمہ دارانہ اور تعمیری استعمال کے حق میں ہیں۔

  بڑھتی ہوئی ناہمواری اور سائبر حملوں کا خطرہ
ہتھیاروں کی دوڑ کے علاوہ، پاکستان نے سلامتی کونسل کو یہ بھی یاد دلایا کہ غیر منظم (Unregulated) مصنوعی ذہانت دنیا میں معاشی اور سماجی ناہمواری کو مزید گہرا کر دے گی۔ امیر اور غریب ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کا فاصلہ مزید بڑھ جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، سستے اور آسانی سے دستیاب AI ٹولز کی وجہ سے جعلی خبریں (Misinformation)، پروپیگنڈا اور سائبر حملوں (Cyber-attacks) کا خطرہ بھی کئی گنا بڑھ چکا ہے، جو کسی بھی ملک کے اندرونی امن کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔
 بلاگ کا حتمی تجزیہ (Conclusion)
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا یہ مؤقف انتہائی بروقت اور حقیقت پسندانہ ہے۔ مصنوعی ذہانت بلاشبہ ایک عظیم انقلاب ہے جو میڈیکل، تعلیم اور سائنس کے میدان میں معجزے دکھا سکتا ہے، لیکن اگر اسے جنگی جنون کے سپرد کر دیا گیا تو یہ انسانیت کا سب سے بڑا نقصان ثابت ہوگا۔ اب یہ دنیا کی سپر پاورز اور اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان جیسے امن پسند ممالک کی آواز پر کان دھریں اور اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے، AI کی نکیل کسنے کے لیے ایک مضبوط عالمی فریم ورک تیار کریں

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template