واٹس ایپ پر یوٹیوب ویڈیوز لائیک کرنے والی نوکری: حقیقت یا ایک بڑا آن لائن فراڈ؟
آج کل پاکستان میں ہر دوسرا شخص معاشی حالات اور کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہے۔ ایسے میں اگر آپ کے موبائل پر ایک میسج آئے جس میں گھر بیٹھے روزانہ چند منٹ کام کر کے ہزاروں روپے کمانے کی آفر ہو، تو دل کو ایک امید سی ملتی ہے۔ پچھلے چند دنوں سے میرے واٹس ایپ پر بھی روزانہ کسی نہ کسی بین الاقوامی نمبر (جیسے انڈونیشیا، ویتنام یا افریقہ کے کوڈز) سے ایک ہی طرز کا میسج آ رہا ہے:
"سلام! کیا آپ گھر بیٹھے روزانہ یوٹیوب ویڈیوز لائیک کر کے 3 سے 5 ہزار روپے کمانا چاہتے ہیں؟ آپ کو بس روزانہ چند منٹ دینے ہوں گے۔"
پہلی نظر میں یہ آفر اتنی دلکش اور خوبصورت لگتی ہے کہ مہنگائی کے ستائے ہوئے ہمارے معصوم اور بے روزگار نوجوان اس کے پیچھے چھپے خطرناک کھیل کو سمجھ نہیں پاتے۔ اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے، یا آپ کے کسی دوست یا رشتہ دار کو ایسا کوئی میسج موصول ہوا ہے، تو خدارا رک جائیے! یہ کوئی جائز نوکری یا آن لائن بزنس نہیں ہے، بلکہ یہ آپ کی جیب کاٹنے اور آپ کی جمع پونجی لوٹنے کا ایک بہت بڑا، جدید اور منظم بین الاقوامی جال ہے۔
آج کے اس تفصیلی مضمون میں، میں آپ کو اپنے ایک بہت قریبی دوست کی سچی کہانی سناؤں گا جو اسی چکر میں اپنی زندگی بھر کی کمائی سے ہاتھ دھو بیٹھا، تاکہ آپ اور آپ کے پیارے اس نقصان سے بچ سکیں۔
یہ آن لائن کھیل شروع کیسے ہوتا ہے؟ (مرحلہ وار طریقہ کار)
یہ دھوکے باز لوگ انتہائی شاطر دماغ کے مالک ہوتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ پہلے دن ہی آپ سے پیسے مانگیں گے، تو آپ کبھی نہیں دیں گے۔ اس لیے وہ آپ کا بھروسہ جیتنے کے لیے نفسیاتی چالیں چلتے ہیں۔ اس کھیل کے بنیادی طور پر تین مراحل ہوتے ہیں:
1۔ پہلا مرحلہ: بھروسہ جیتنا اور مفت پیسے دینا
جب آپ ان کے واٹس ایپ میسج کا جواب دیتے ہیں، تو وہ آپ کو ایک آزمائشی ٹاسک (Test Task) دیتے ہیں۔ وہ آپ کو یوٹیوب کی 3 ویڈیوز کے لنکس بھیجیں گے اور کہیں گے کہ انہیں لائیک کر کے اسکرین شاٹ بھیجیں۔ جیسے ہی آپ سکرین شاٹ بھیجتے ہیں، وہ آپ سے آپ کا ایزی پیسہ (Easypaisa) یا جیز کیش (JazzCash) نمبر مانگتے ہیں۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ اگلے 5 منٹ کے اندر واقعی آپ کے اکاؤنٹ میں 500 سے 1000 روپے منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہاں عام انسان کا لالچ جاگ اٹھتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ: "واہ! کام تو سچ میں بہت آسان ہے اور پیسے بھی سچ مچ مل رہے ہیں، یہ فراڈ نہیں ہو سکتا
2۔ دوسرا مرحلہ: ٹیلی گرام گروپ اور پیسے ڈبل کرنے کا جھانسا
جیسے ہی آپ ان کا پہلا ٹاسک پورا کرتے ہیں، وہ آپ کو کہتے ہیں کہ اب آپ کے اچھے کام کی وجہ سے آپ کو ہمارے 'VIP گروپ' میں شامل کیا جا رہا ہے، جہاں روزانہ زیادہ پیسے ملیں گے۔ اس کے لیے وہ آپ کو ٹیلی گرام (Telegram) ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کا کہتے ہیں۔
جب آپ اس گروپ میں شامل ہوتے ہیں، تو وہاں پہلے سے سینکڑوں لوگ موجود ہوتے ہیں۔ وہاں آپ کو 'انویسٹمنٹ ٹاسک' یا 'کرپٹو ٹاسک' کا تعارف کروایا جاتا ہے۔ آپ سے کہا جاتا ہے کہ: "اگر آپ اب 5 ہزار روپے ہمارے دیے گئے اکاؤنٹ میں انویسٹ کریں گے، تو سسٹم کی ٹریڈنگ کے ذریعے شام تک آپ کو 8 ہزار روپے واپس ملیں گے۔"
3۔ تیسرا مرحلہ: بڑا جھٹکا اور سب کچھ ختم
اس ٹیلی گرام گروپ میں موجود باقی ممبران (جو دراصل انہی کے اپنے فیک اکاؤنٹس اور بوٹس ہوتے ہیں) دھڑا دھڑ اسکرین شاٹس بھیج رہے ہوتے ہیں کہ: "میں نے 20 ہزار بھیجے اور مجھے 35 ہزار مل گئے!" یہ سب دیکھ کر جب ایک عام پاکستانی اپنی محنت کی کمائی ان کے اکاؤنٹ میں بھیجتا ہے، تو پہلی بار شاید وہ 5 ہزار کے بدلے 8 ہزار روپے واپس کر بھی دیں تاکہ آپ کا ایمان پکا ہو جائے۔
لیکن جیسے ہی آپ ان کے جھانسے میں آکر بڑی رقم، جیسے 50 ہزار، 1 لاکھ یا 3 لاکھ روپے ٹرانسفر کرتے ہیں، وہ اچانک پینترا بدل لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ: "سسٹم میں خرابی آگئی ہے، آپ کو مزید 50 ہزار بھیجنے ہوں گے تب ہی پرانے پیسے نکلیں گے۔" اور جیسے ہی آپ مزید پیسے دینے سے انکار کرتے ہیں، وہ آپ کو گروپ سے بلاک کر دیتے ہیں اور آپ کا نمبر ہمیشہ کے لیے اڑا دیا جاتا ہے۔
میرے قریبی دوست کی سچی اور دردناک کہانی
میں یہاں اپنے دوست کا اصل نام ظاہر نہیں کروں گا، لیکن یہ واقعہ پچھلے ہی مہینے کا ہے۔ وہ ایک پرائیویٹ نوکری کرتا تھا جہاں اس کی تنخواہ بہت محدود تھی۔ گھر کے اخراجات اور بجلی کے بلوں سے پریشان ہو کر جب اسے یہ واٹس ایپ میسج ملا، تو اس نے اسے غیبی مدد سمجھا۔
شروع میں اسے بھی 1500 روپے ملے، جس سے اس کا حوصلہ بڑھا۔ اس نے پہلے 5 ہزار لگائے تو اسے 8 ہزار ملے۔ پھر اس نے سوچا کہ کیوں نہ بڑی رقم لگائی جائے تاکہ بہن کی شادی کے لیے کچھ پیسے جمع ہو سکیں۔ اس نے اپنے اصرار پر کمیٹی کے پیسے اور کچھ دوستوں سے ادھار لے کر ڈھائی لاکھ روپے (250,000) ان کے بتائے ہوئے اکاؤنٹ میں بھیج دیے۔
رقم بھیجتے ہی ادھر سے جواب آیا کہ آپ نے ٹاسک کا وقت دیر سے پورا کیا، اب یہ رقم منجمد (Freeze) ہو چکی ہے، اسے نکالنے کے لیے ایک لاکھ روپے مزید بھیجیں۔ اس وقت اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے روتے ہوئے مجھ سے رابطہ کیا، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ وہ لوگ رقم لے کر غائب ہو چکے تھے اور اس کا اکاؤنٹ بلاک تھا ۔ آج وہ دوست شدید ذہنی تناؤ اور قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے
اس اسکیم سے خود کو اور اپنے خاندان کو کیسے بچائیں؟
اگر آپ انٹرنیٹ پر محفوظ رہنا چاہتے ہیں، تو ہمیشہ ان چند سنہری اصولوں کو یاد رکھیں:
- بین الاقوامی نمبرز سے ہوشیار رہیں: اگر آپ کو +62, +84, +234 یا کسی بھی نامعلوم بیرونی ملک کے کوڈ سے جاب کی آفر آئے، تو اسے فوری بلاک اور رپورٹ کریں۔
- کوئی نوکری پہلے پیسے نہیں مانگتی: دنیا کی کوئی بھی جائز کمپنی کام دینے کے لیے آپ سے انویسٹمنٹ یا سیکیورٹی فیس کے نام پر ایک روپیہ بھی نہیں مانگتی۔
- ذاتی معلومات شیئر نہ کریں: اپنے جیز کیش، ایزی پیسہ، بینک اکاؤنٹ کی معلومات یا موبائل پر آنے والا او ٹی پی (OTP) کوڈ کبھی کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
- لالچ سے بچیں: اگر کوئی آپ کو صرف یوٹیوب ویڈیوز دیکھنے یا لائیک کرنے کے روزانہ ہزاروں روپے دینے کا دعویٰ کر رہا ہے، تو سمجھ جائیں کہ دال میں کچھ کالا ہے کیونکہ اتنے آسان کام کے اتنے پیسے کوئی نہیں دیتا۔
میری آپ سے مخلصانہ اپیل اور حتمی نتیجہ
میرے پیارے بھائیو اور بہنو! انٹرنیٹ کی دنیا میں ایسا کوئی الہ دین کا چراغ یا جادو کا بٹن نہیں ہے جسے دبانے سے راتوں رات پیسے آنا شروع ہو جائیں۔ آن لائن دنیا سے پیسہ کمانا بالکل ممکن ہے، لیکن اس کے لیے آپ کو کوئی نہ کوئی حقیقی ہنر (Skill) سیکھنا پڑتا ہے اور اس پر سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔
اگر آپ سچ میں انٹرنیٹ سے حلال اور مستقل کمائی کرنا چاہتے ہیں، تو شارٹ کٹس کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دیں اور یہ چیزیں سیکھیں:
- گرافک ڈیزائننگ (Graphic Designing)
- ویڈیو ایڈیٹنگ (Video Editing)
- کنٹینٹ رائٹنگ (Content Writing)
- ڈیجیٹل مارکیٹنگ (Digital Marketing)
اس مہنگائی کے دور میں آپ کا ایک ایک روپیہ بہت قیمتی ہے۔ اسے اپنی فیملی پر خرچ کریں، کسی اچھے کورس پر لگائیں، لیکن ان آن لائن چوروں اور لٹیروں کے ہتھے چڑھا کر ضائع نہ کریں۔ اگر آپ کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے، تو فوری طور پر ایف آئی اے (FIA) سائبر کرائم ونگ میں اپنی شکایت درج کروائیں۔
اگلی بار جب بھی کوئی آپ کو ایسی آفر دے، تو اس مضمون کو یاد رکھیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ بھی اسے لازمی شیئر کریں تاکہ کسی اور کا گھر اجڑنے سے بچ سکے

Comments
Post a Comment