کھوکھلی دنیا، سستے رابطے اور مخلص رشتوں کا قحط
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہمارے پاس فیس بک پر ہزاروں دوست ہیں، انسٹاگرام پر سینکڑوں فالوورز ہیں اور واٹس ایپ پر چیٹس کی لمبی فہرست ہے۔ لیکن اگر کبھی رات کے اندھیرے میں دل اداس ہو اور کسی سے دل کی بات کرنی ہو، تو کانٹیکٹ لسٹ (Contact List) کو اوپر نیچے اسکرول کرتے ہوئے بھی کوئی ایک شخص ایسا نہیں ملتا جسے ہم بلا جھجھک فون کر سکیں۔ سوشل میڈیا نے ہمیں پوری دنیا سے تو جوڑ دیا ہے، لیکن ہمارے پاس بیٹھے اپنوں سے بہت دور کر دیا ہے۔ آج ہمارے رابطے تو بہت "سستے" اور آسان ہو گئے ہیں، لیکن مخلص رشتوں کا ایک شدید قحط پڑ چکا ہے۔ "لائیک" اور "کمنٹ" کے پیچھے چھپی تنہائی ہم کسی کی پوسٹ پر 'Like' کا بٹن دبا کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے دوستی کا حق ادا کر دیا۔ کسی کی سالگرہ پر سٹیٹس لگا دینا اب محبت کا پیمانہ بن چکا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ جب تک آپ کسی کے پاس بیٹھ کر، اس کی آنکھوں میں دیکھ کر اس کا حال نہیں پوچھتے، تب تک وہ رشتہ صرف ایک ڈیجیٹل اسکرین تک محدود رہتا ہے۔ ہم سب ایک ایسی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جہاں مادی چیزوں (گاڑی، بنگلہ، مہنگے موبائل) کو رشتوں پر...