مصروف زندگی، ادھورے خواب اور چائے کی ایک پیالی
ہم سب کس چیز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اس سوال پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ہم سب ایک ایسی دوڑ کا حصہ ہیں جس کا کوئی آخری کنارہ نہیں ہے۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات کو تھک ہار کر بستر پر گرنے تک، ایک ہی دھن سوار ہوتی ہے: "کامیاب ہونا ہے، پیسے کمانے ہیں، زندگی کو بہتر بنانا ہے"۔ لیکن اس اندھی دوڑ میں ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی کو "بہتر" بنانے کے چکر میں، ہم اسے "جینا" ہی چھوڑ چکے ہیں۔ صبح کا آغاز الارم کی بیزار کن آواز سے ہوتا ہے، اور پھر شروع ہوتا ہے ایک ایسا میکانیکی سفر جس میں ہم خود کو ایک مشین کی طرح ہانکتے چلے جاتے ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا کہ آخری بار آپ کب سکون سے بیٹھے تھے؟ بغیر موبائل فون دیکھے، بغیر آنے والے کل کی فکر کیے، اور بغیر کسی کام کی ٹینشن لیے؟ شاید یاد بھی نہ ہو۔ ہم نے اپنی زندگیوں کو اتنا مصروف کر لیا ہے کہ اب سکون کا ملنا ایک خواب سا لگتا ہے۔ ہر شخص ایک انجانی خوف اور بے چینی کی گرفت میں ہے، اور المیہ یہ ہے کہ ہم نے اسی بے چینی کا نام "مصروفیت اور کامیابی" رکھ دیا ہے۔ 1۔ سوشل میڈیا کا دھوکہ اور ہما...