Posts

Showing posts with the label Life Reflections

کہاں آ گئے ہم؟ (بچپن کی وہ گلیاں اور آج کی مصروفیات)

Image
کبھی کبھی رات کو جب فون کی اسکرین بند کر کے لیٹیں ، تو یکدم دماغ میں بچپن کا کوئی منظر گھوم جاتا ہے۔ وہ تپتی دوپہروں میں گھر والوں سے چھپ کر گلی میں نکل جانا وہ ننگی باؤں مٹی پر بھاگنا، اور پانچ روپے کا گولا گنڈا کھا کر ایسے خوش ہونا جیسے دنیا کی ساری دولت مل گئی ہو۔ آج ہاتھ میں چالیس پچاس ہزار کا موبائل ہے، اے سی والا کمرہ ہے، لیکن سچی بات یہ ہے کہ وہ مٹی والی خوشی اور بے فکری اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ ہم سب جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے، زندگی کی مصروفیات، نوکریوں، پیسوں کی دوڑ اور ذمہ داریوں کے بوجھ تلے ایسے دبتے چلے گئے کہ اپنا وہ معصوم اور پرسکون بچپن کہیں پیچھے ہی چھوڑ آئے۔ آج کا انسان بظاہر بہت ترقی کر چکا ہے، لیکن اندر سے وہ اسی پرانے سکون کا پیاسا ہے جو کبھی مٹی کے کھلونوں اور کچی گلیوں میں مفت ملا کرتا تھا۔ 1۔ اتوار کا انتظار اور وہ چھوٹی خوشیاں ہمارا دور بھی کیا کمال دور تھا۔ انٹرنیٹ نہیں تھا، پر خوشیاں سجی تھیں۔ اتوار کے دن صبح اٹھ کر پی ٹی وی پر کارٹون دیکھنا، اور شام کو گلی کے سارے لڑکوں کا اکٹھے ہو کر کرکٹ کھیلنا۔ کسی کے پاس اچھا بلا (Bat) ہوتا تو وہ پورے محلے کا ہیرو بن جات...

کھوکھلی دنیا، سستے رابطے اور مخلص رشتوں کا قحط

Image
  ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہمارے پاس فیس بک پر ہزاروں دوست ہیں، انسٹاگرام پر سینکڑوں فالوورز ہیں اور واٹس ایپ پر چیٹس کی لمبی فہرست ہے۔ لیکن اگر کبھی رات کے اندھیرے میں دل اداس ہو اور کسی سے دل کی بات کرنی ہو، تو کانٹیکٹ لسٹ (Contact List) کو اوپر نیچے اسکرول کرتے ہوئے بھی کوئی ایک شخص ایسا نہیں ملتا جسے ہم بلا جھجھک فون کر سکیں۔ سوشل میڈیا نے ہمیں پوری دنیا سے تو جوڑ دیا ہے، لیکن ہمارے پاس بیٹھے اپنوں سے بہت دور کر دیا ہے۔ آج ہمارے رابطے تو بہت "سستے" اور آسان ہو گئے ہیں، لیکن مخلص رشتوں کا ایک شدید قحط پڑ چکا ہے۔ "لائیک" اور "کمنٹ" کے پیچھے چھپی تنہائی ہم کسی کی پوسٹ پر 'Like' کا بٹن دبا کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے دوستی کا حق ادا کر دیا۔ کسی کی سالگرہ پر سٹیٹس لگا دینا اب محبت کا پیمانہ بن چکا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ جب تک آپ کسی کے پاس بیٹھ کر، اس کی آنکھوں میں دیکھ کر اس کا حال نہیں پوچھتے، تب تک وہ رشتہ صرف ایک ڈیجیٹل اسکرین تک محدود رہتا ہے۔ ہم سب ایک ایسی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جہاں مادی چیزوں (گاڑی، بنگلہ، مہنگے موبائل) کو رشتوں پر...