کہاں آ گئے ہم؟ (بچپن کی وہ گلیاں اور آج کی مصروفیات)
کبھی کبھی رات کو جب فون کی اسکرین بند کر کے لیٹیں
، تو یکدم دماغ میں بچپن کا کوئی منظر گھوم جاتا ہے۔ وہ تپتی دوپہروں میں گھر والوں سے چھپ کر گلی میں نکل جانا وہ ننگی باؤں مٹی پر بھاگنا، اور پانچ روپے کا گولا گنڈا کھا کر ایسے خوش ہونا جیسے دنیا کی ساری دولت مل گئی ہو۔ آج ہاتھ میں چالیس پچاس ہزار کا موبائل ہے، اے سی والا کمرہ ہے، لیکن سچی بات یہ ہے کہ وہ مٹی والی خوشی اور بے فکری اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ ہم سب جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے، زندگی کی مصروفیات، نوکریوں، پیسوں کی دوڑ اور ذمہ داریوں کے بوجھ تلے ایسے دبتے چلے گئے کہ اپنا وہ معصوم اور پرسکون بچپن کہیں پیچھے ہی چھوڑ آئے۔ آج کا انسان بظاہر بہت ترقی کر چکا ہے، لیکن اندر سے وہ اسی پرانے سکون کا پیاسا ہے جو کبھی مٹی کے کھلونوں اور کچی گلیوں میں مفت ملا کرتا تھا۔
1۔ اتوار کا انتظار اور وہ چھوٹی خوشیاں
ہمارا دور بھی کیا کمال دور تھا۔ انٹرنیٹ نہیں تھا، پر خوشیاں سجی تھیں۔ اتوار کے دن صبح اٹھ کر پی ٹی وی پر کارٹون دیکھنا، اور شام کو گلی کے سارے لڑکوں کا اکٹھے ہو کر کرکٹ کھیلنا۔ کسی کے پاس اچھا بلا (Bat) ہوتا تو وہ پورے محلے کا ہیرو بن جاتا تھا، اور جس کی گیند ہوتی، اس کی مرضی کے بغیر کھیل شروع نہیں ہو سکتا تھا۔ ہار جیت پر ہونے والے وہ معصوم جھگڑے اور اگلے ہی منٹ میں دوبارہ دوست بن جانا، یہ وہ دولت تھی جس کی قیمت کا اندازہ ہمیں آج ہوتا ہے۔
اور وہ بارش کا پانی! جیسے ہی بارش ہوتی، سب کا کاپیوں کے صفحے پھاڑ کر کشتیاں بنانا شروع کر دینا۔ گلی کے بہتے پانی میں وہ کاغذ کی کشتی چھوڑ کر اس کے پیچھے بھاگنا اور اس کے ڈوبنے پر اداس ہو جانا—کتنا سادہ اور خوبصورت وقت تھا۔ آج کے بچے تو بس موبائل کی اسکرین پر انگلیاں ہلاتے رہتے ہیں، انہیں کیا پتہ کہ گلی میں پٹھو گول گرم، چھپن چھپائی اور لنگڑی پالا کھیلنے کا کیا سواد تھا۔ ہم نے مادی ترقی تو کر لی، لیکن بچوں سے ان کا قدرتی اور خوبصورت بچپن چھین لیا۔
2۔ لوگ سستے تھے، پر مخلص تھے
تب محلے میں کوئی پرایا نہیں ہوتا تھا۔ اگر امی گھر پر نہیں ہیں تو برابر والی آنٹی نے آواز دے کر روٹی کھلا دینی۔ کسی ایک کے گھر ٹی وی پر میچ چل رہا ہوتا تو پورا محلہ وہاں اکٹھا ہو جانا۔ رشتوں میں یہ واٹس ایپ والی جھوٹی فارمیلیٹی نہیں تھی، لوگ سیدھے سادھے تھے پر ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں دل سے شریک ہوتے تھے۔ محلے کے کسی ایک گھر میں خوشی یا غمی ہوتی، تو پورا محلہ اپنا کام چھوڑ کر وہاں پہنچ جاتا تھا۔ چولہے سانجھے ہوا کرتے تھے اور دلوں میں ایک دوسرے کے لیے سچی محبت ہوتی تھی۔
آج ہم ایک ہی بلڈنگ میں رہ کر اپنے پڑوسی کو نہیں جانتے۔ سب اپنے اپنے موبائلوں میں بند ہیں اور دل اتنے دور ہو گئے ہیں کہ بس پوچھیں مت۔ ہم نے اپارٹمنٹس اور بنگلے تو بڑے بنا لیے، لیکن ان کے اندر رہنے والے انسانوں کے دل چھوٹے ہو گئے۔ سوشل میڈیا پر ہمارے ہزاروں دوست ہیں، لیکن جب زندگی میں کوئی مشکل وقت آتا ہے، تو کندھے پر ہاتھ رکھنے والا ایک مخلص انسان بھی پاس نہیں ہوتا۔ رشتوں کا یہ اکیلا پن آج کے انسان کی بے سکونی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
3۔ ادھورے خواب اور وقت کی کمی
جب ہم بچے تھے، تو ہمارے خواب بہت سادہ اور خوبصورت تھے۔ کوئی پائلٹ بننا چاہتا تھا، کوئی کرکٹر، تو کوئی بس ایک آزاد پنچھی کی طرح دنیا گھومنا چاہتا تھا۔ لیکن جیسے ہی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا، زندگی کی تلخ حقیقتوں اور گھریلو ذمہ داریوں نے ہمارے ان معصوم خوابوں کو کہیں گہرے تہہ خانے میں دفن کر دیا۔
آج ہم سب ایک ایسی مشین بن چکے ہیں جو صرف صبح اٹھتی ہے، کام پر جاتی ہے، پیسے کماتی ہے اور رات کو تھک کر سو جاتی ہے۔ ہم نے اپنے شوق، اپنی پسند اور اپنے اندر کے انسان کو مار دیا ہے۔ وقت اتنی تیزی سے گزر رہا ہے کہ ہمیں خود اپنے لیے، اپنے بچوں کے لیے اور اپنے بوڑھے والدین کے پاس بیٹھنے کے لیے دو منٹ کا وقت نہیں ملتا۔ ہم ہر وقت "مصروف" ہیں، لیکن اس مصروفیت کا حاصل کیا ہے؟ صرف ذہنی دباؤ اور بے چینی۔
4۔ دل اب بھی وہیں ہے
ہم بڑے تو ہو گئے ہیں، نوکریاں بھی لگ گئیں، پیسے بھی کما رہے ہیں، لیکن سچ بتائیں؟ اندر سے ہم سب آج بھی اسی بچپن کے ایک دن کے لیے ترستے ہیں۔ وہ دن جب سب سے بڑی ٹینشن صرف ہوم ورک نہ کرنے پر ٹیچر کی ڈانٹ ہوتی تھی۔ زندگی تو چلتی رہے گی، پر کبھی کبھی رک کر اپنے پرانے دوستوں کو ایک فون گھمایا کریں۔ ان سے وہی پرانی مٹی کی باتیں کریں، کیونکہ زندگی کا اصل سکون انہی پرانی یادوں میں چھپا ہوا ہے جنہیں ہم اکثر وقت کی دھول میں بھول جاتے ہیں۔
حاصل کلام (Conclusion)
بچپن کی وہ گلیاں شاید اب بدل چکی ہوں، وہاں اب پکے مکان بن گئے ہوں اور وہ پرانے دوست دنیا کے الگ الگ کونوں میں مصروف ہوں، لیکن وہ یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ زندگی میں جتنا بھی آگے بڑھ جائیں، اپنے اندر کے اس معصوم بچے کو کبھی مرنے نہ دیں۔ کبھی کبھی ننگی باؤں گھاس پر چلیں، کبھی بارش کی بوندوں کو اپنے چہرے پر محسوس کریں اور کبھی بنا کسی وجہ کے مسکرائیں۔ زندگی صرف کام کرنے اور پیسے کمانے کا نام نہیں ہے، بلکہ ان چھوٹے چھوٹے لمحات کو خوبصورتی سے جینے کا نام ہے۔ اپنے آج میں جینا سیکھیں اور ماضی کی ان خوبصورت یادوں سے اپنے حال کو پرسکون بنائیں۔

Comments
Post a Comment